قمر رضا شہزاد ۔۔۔ اگرچہ ذکر ترا دم بدم کیا میں نے

اگرچہ ذکر ترا دم بدم کیا میں نے
خیال پھر یہی آتا ہے کم کیا میں نے

فراتِ عصر پہ ظالم سے جنگ کرتے ہوئے
جو کٹ گیا وہی بازو علم کیا میں نے

مہکتے کیوں نہ گلِ سرخ میرے سینے میں
لہو کے سیل سے یہ دشت نم کیا میں نے

کمال یہ ہے کہ پھر بھیگتا گیا کاغذ
کبھی جو پیاس کا قصہ رقم کیا میں نے

مجھے نہیں ہے کوئی اور غم خدا کا شکر
ہر ایک غم کو ترے غم میں ضم کیا میں نے

Related posts

Leave a Comment